44 views
قبر پر ہاتھ اٹھا کر دعاء کرے یا بغیر ہاتھ اٹھائے؟
(۸۹)سوال:قبر پر کلام پاک پڑھ کر ہاتھ اٹھاکر اللہ سے یہ فریاد کرنا کہ یہ جو کچھ میں نے پڑھا ہے میرے فلاں عزیز کو بخش دے، مقصد ہاتھ اٹھاکر اللہ تعالیٰ سے عرض کرنا ہے یا بغیر ہاتھ اٹھائے؟
فقط: والسلام
المستفتی: سید حبیب احمد، سوائے مادھو پور
asked Jun 6, 2023 in اسلامی عقائد by azhad1

1 Answer

الجواب وباللّٰہ التوفیق:بغیر ہاتھ اٹھائے دعا کرے اور قبر کی طرف پشت کرکے اور اگر قبلہ کی طرف منھ کرکے دعا کرے کہ قبر سامنے نہ ہو، توہاتھ اٹھاکر دعاء کرسکتا ہے۔(۱)

(۱) وفي حدیث ابن مسعود رضي اللّٰہ عنہ، رأیت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم في قبر عبد اللّٰہ ذي النجادین الحدیث وفیہ فلما فرغ من دفنہ استقبل القبلۃ رافعاً یدیہ أخرجہ أبو عوانہ في صحیحہ۔ (ابن حجرالعسقلاني، فتح الباري، ’’کتاب الدعوات: قولہ باب الدعاء مستقبل القبلۃ‘‘: ج ۱۱، ص: ۱۶۵، رقم: ۶۳۴۳)
ویکرہ النوم عند القبر وقضاء الحاجۃ وکل ما لم یعہد من السنۃ والمعہود منہا لیس إلا زیارتہا والدعاء عندہا قائماً کما کان یفعل صلی اللّٰہ علیہ وسلم في الخروج إلی البقیع۔ (ابن الہمام، فتح القدیر، ’’کتاب الصلوۃ: فصل في الدفن‘‘: ج ۲، ص: ۱۵۰)


فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج1ص392

answered Jun 6, 2023 by Darul Ifta
...