45 views
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک شخص حج کرنے گیا اور دوران حج کچھ ارکان کی ادائیگی کے بعد اس کا انتقال ہوگیا
تو کیا اس کی طرف سے حج بدل ضروری ہے
اگر کوئی شخص اسکی اولاد میں سے اسکی وصیت کے بغیر اپنے گھر سے مکہ چلا جائے اور جہاں تک اس نے ارکان ادا کئے تھے اس سے آگے حج مکمل کرے تو کیا یہ مرنے والے کی طرف سے حج مانا جائے گا یا نہیں اس کو حج بدل مانیں یا کچھ اور؟
asked Jul 7, 2023 in حج و عمرہ by Ahsan Qasmi

1 Answer

Ref. No. 2417/45-3667

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  دوران حج اگر کسی کا انتقال ہوجائے اور اس نے کوئی وصیت نہ کی ہو تو اس کی طرف سے حج بدل لازم وضروری نہیں ہے۔ اگر اولاد میں سے کوئی اس کی طرف سے حج بدل کرنا چاہے تو مستقل حج کی نیت سے کرے گا، حج افراد، حج تمتع و قران میں سے کوئی بھی کرے۔ لیکن سوال میں مذکور صورت کہ باپ جو ارکان اداکرچکاہے اس کے بعد کے ارکان کوئی ادا کرے یہ درست نہیں ہے۔ مثلا وقوف عرفہ کے بعد کسی کا انتقال ہوگیا اور آپ اس کے بعد کے ارکان اداکریں تو یہ حج بدل نہیں کہلائے گا۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Jul 24, 2023 by Darul Ifta
...