68 views
السلام علیکم رحمۃ اللہ
ایک شخص شبیر احمد کا انتقال ہوا تو انکی جائیداد کو.
 انکے چھ بیٹوں نے کچھ اس طرح تقسیم کیاکہ جن دو بھائی (ارشد فاروق) کا کاروبار کمزور ہے انکو گھر کے عمارت بنے ہوئے دوکمرے مع صحن دے دئے
باقی چار جن کے کاروبار ٹھیک ہے(1) انمیں سے سب سے بڑا بیٹا  "علی "یہ کہتا ہے کہ چونکہ میں نے گھر میں زیادہ پیسہ لگایا ہے اسلئے میں اپنی پسند سے جو حصہ چاہوں گا لوں گا چاہے تمہاری مرضی ہو یا نہ ہو چنانچہ اس بڑے لڑکے علی نے ایک حصہ لے لیا جس میں عمارت والدین کے رہتے ہوئے بنی  تھی
باقی تین بھائیوں کی رضامندی نہیں لی گئی(2)
اسکے علاوہ دوبھائیوں(غیر متعین) کو ایسے حصے ملینگے جس میں کوئی عمارت نہیں ہے تو جن کو یہ  خالی جگہ مل گی انکو وہ تین بیٹے جن کے پاس عمارت والی جگہ آئی ہے (علی ارشد فاروق) تینوں پچاس پچاس ہزار روپے دیں گے
اور یہ سب کی رضامندی سے ہوگا
؟ تو کیا یہ تقسیم درست ہے یا نہیں
asked Aug 14, 2023 in احکام میت / وراثت و وصیت by Ahsan Qasmi

1 Answer

Ref. No. 2489/45-3856

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ میت کی تمام اولاد اگر آپسی رضامندی سے وراثت کی تقسیم  میں کمی زیادتی کرے تو اس کی گنجائش ہے ۔ لیکن بہتر یہ ہے کہ پہلے شرعی ضابطہ کے مطابق تقسیم عمل میں آئے پھر جوکوئی اپنا حصہ کسی دوسرے کو دینا چاہے وہ اپنی مرضی سے دوسرے کو دے سکتاہے۔  صورت مسئولہ میں بڑے بیٹے کا اپنی مرضی سے حصہ لینا درست نہیں ہے، اور باپ کی موجودگی میں جو کچھ اس نے تعمیر میں مدد کی وہ ازراہ تبرع تھی، اس کی وجہ سے وراثت میں سے زیادہ حصہ کا مطالبہ جائز نہیں ہے۔ تمام جائداد کی تقسیم میں جائداد کی مالیت کے اعتبار سے تقسیم عمل میں آئے گی۔ اس لئے زمین مع مکان اور خالی زمین کی تقسیم میں فرق ہوگا، اور مکان لینے والوں پر خالی زمین والے کو تعمیر کے عوض کچھ رقم دینے کا فیصلہ بھی  باہمی رضامندی سےدرست ہوگا۔ 

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Sep 2, 2023 by Darul Ifta
...