90 views
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
ہم لوگ  کل  آٹھ بھائی بہن ہوئے، چار بہنیں اور چار بھائی تھے، سب سے بڑے بھائی کاوالد صاحب کے انتقال سے دس سال پہلے انتقال ہوگیا ، اور میری امی کا بھی  انتقال ابو سے آٹھ سال پہلے ہوگیا۔  میرے والدصاحب نے  اپنے بڑے بیٹے کوان کی غلط عادتوں کی وجہ سے  تیس سال قبل ہی گھر سے نکال دیا تھا اور جب انتقال ہوا تو  ان کےجنازہ میں بھی نہیں گئے۔ میرے والد کا انتقال ابھی  دو سال پہلے ہواہے،  ورثہ میں تین بیٹے اور چار بیٹیاں  ابھی موجود ہیں ۔  میرے بڑے بھائی والد کے جیتے جی کبھی بھی اپنا حق مانگنے نہیں آئے۔ اب بڑے بھائی کی اولاد اپنے دادا کی جائداد میں  سے  اپنا حق مانگ رہی ہے۔ تو کیا ان لوگوں کاکوئی حق بنتاہے دادا کی پراپرٹی میں یا نہیں، اسی طرح وراثت کی تقسیم فرماکر ممنون فرمائیں۔
asked Aug 22, 2023 in احکام میت / وراثت و وصیت by azhad1

1 Answer

Ref. No. 2496/45-3798

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔   بشرط صحت سوال، صورت مسئولہ میں والد کی وفات کے وقت ان کی اولاد میں سے جو لوگ باحیات تھے، ان کے درمیان ہی وراثت کی تقسیم عمل میں آئے گی، اور جس بیٹے کا انتقال ہوگیا تھا اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ چنانچہ مرحوم کی کل جائداد کو 10 حصوں میں تقسیم کریں گے، ہر ایک بیٹے کو دو دو حصے اور ہر ایک بیٹی کو ایک ایک حصہ ملے گا۔ یعنی لڑکوں کو دوہرا اور لڑکیوں کو ااکہرا حصہ ملے گا۔ اور بڑے بھائی کی اولاد یعنی مرحوم کے پوتوں کو وراثت میں سے کوئی حصہ نہیں ملے گا، ان کا حصہ کا مطالبہ کرنا از روئے شرع جائز نہیں ہے، تاہم اگر وراثت میں حصہ پانے والے افراد اپنے حصہ میں سے کچھ  نکال کر بطور حسن سلوک   اپنے مرحوم بھائی کی اولاد کی  مدد کریں اور ان کی ضروریات کا خیال کریں  تو  بڑے اجرو ثواب کے مستحق ہوں گے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Aug 22, 2023 by Darul Ifta
...