113 views
اسلام علیکم و رحمت اللہ
مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نکاح کرے جس میں لڑکی اور اس کا ولی اور گواہان موجود ہوں  اور نکاح ان دو گواہوں کی موجودگی میں ہو سب کچھ  شرعی طریقے سے ہو لیکن لڑکی کے رشتہ داروں کے ڈر کی وجہ سے وہ دونوں گواہان بولے کہ نکاح نامے پہ ہمارے نام کی جگہ کسی اور کا لکھ دیں یعنی کا شرعی طریقے سے ہوا ان گواہوں کی موجودگی میں جیسے زبانی ان کا نام لے کے کہا گیا کہ ان دونوں کی موجودگی میں اپ کا نکاح کیا جاتا ہے  لیکن نکاح نامے پہ کسی اور کا نام لکھوں تو  کیا زبانی ایجاب و قبول گواہوں کی موجودگی میں اور مولوی صاحب نے نکاح پڑھا ہے تو نکاح ہو جائے گا اور نکاح نامے پہ کسی اور کا نام لکھا جائے گواہوں میں قانونی کاروائی کے لیےاس سے نکاح پہ کوئی اثر پڑے گا یا نہیں
asked Aug 28, 2023 in نکاح و شادی by Muhammad Nouman

1 Answer

Ref. No. 2534/45-3873

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ جب دومعتبر گواہوں کی موجود گی میں زبانی  ایجاب و قبول کے ساتھ نکاح ہوگیا تو یہ نکاح درست ہوگیا۔ اب اگر نکاح  ہوجانے کے بعد گواہوں نے نکاح نامہ پراپنا  غلط نام لکھوایا  تو اس سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Sep 9, 2023 by Darul Ifta
...