120 views
السلام علیکم۔ حضرت میں  اسی کلومیٹر کے سفر کی نیت سے  نکلا تھا۔ میں منزل پر پہنچ کر ۲ رکعت نماز قصر ظہر پڑھی۔  عصر میں مجھے معلوم ہوا کہ منزل میرے شہر سے محض   پینسٹھ کلومیٹر دور ہے۔ جو ظہر میں میں نے ۲ رکعت نماز قصر پڑھی، کیا وہ مجھے لوٹانے کی ضرورت ہے جبکہ اُس وقت میری نیت مسافر کی تھی؟
asked Sep 8, 2023 in احکام سفر by abdulahad

1 Answer

Ref. No. 2562/45-3911

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ قصر نماز کے لیے مسافت سفر کا ہونالازم ہے محض سفر کی نیت کرنا کافی نہیں ہے چوں کہ جس جگہ کا ارادہ تھا وہ جگہ مساف قصر پر نہیں ہے اس لیے قصر کرنا جائزنہیں تھا اس لیے پڑھی گئی ظہر کی نماز کا اعادہ کرنا ضروری ہوگا۔ علامہ کاسانی نے لکھا ہے کہ مسافر ہونے کے لیے تین شرطیں ہیں پہلی شرط یہ ہے کہ سفر کی نیت ہو اگر سفر کی نیت نہ ہو اور پوری دنیا کا چکر لگالے تو مسافر نہیں ہوگا دوسری شرط یہ ہے کہ مسافت سفر ہوا اگر سفر کی نیت ہو لیکن مسافت سفر مکمل نہیں ہے تو وہ مسافر نہیں ہوگا تیسری شرط ہے کہ اپنی آبادی سے نکل جائے محض ارادہ سفر قصر کے لیے کافی نہیں ہے۔

الحکم معلق بالسفر فكان المعتبر مسيرة ثلاثة أيام على قصد السفر وقد وجد والثاني: نية مدة السفر لأن السير قديكون سفرا و قد لا يكون؛ لأن الإنسان قد يخرج من مصره إلى موضع لإصلاح الضيعة ثم تبدو له حاجة أخرى إلى المجاوزة عنه إلى موضع آخر ليس بينهما مدة سفر ثم وثم إلى أن يقطع مسافة بعيدة أكثر من مدة السفر لا لقصد السفر فلا بد من النية للتمييز والثالث: الخروج من عمران المصر فلا يصير مسافرابمجردنية السفر مالم يخرج من عمران المصر (بدائع الصنائع ، 1/ 94)

 واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Sep 16, 2023 by Darul Ifta
...