40 views
علم کو دینی اور دنیاوی میں تقسیم کرنا:
(۱۲۰)سوال:مولانا صاحب: علم کو دو حصوں یعنی دینی علم اور دنیاوی علم میں تقسیم کرنا کہاں تک درست ہے؟ کیونکہ ہر چیز اللہ تعالیٰ نے بنائی ہے، لہٰذا ہر علم اللہ کی قدرت پر دلالت کرتا ہے۔ یقینا قرآن اللہ تعالیٰ کے الفاظ ہیں اور یہ سب سے اونچے درجہ پر ہیں، سب سے اول درجہ اس کو حاصل ہے؛ لیکن کیا دوسرے علوم کو دوسرا یا تیسرا درجہ حاصل ہوسکتا ہے؟
فقط:والسلام
المستفتی: ریاست علی، بجنوری
asked Sep 19, 2023 in فقہ by azhad1

1 Answer

الجواب وباللّٰہ التوفیق:دنیاوی علم سے مراد وہ علم ہے، جس کا تعلق اس دنیا کے مسائل وضروریات سے ہے اور دینی علم سے مراد وہ علم ہے، جس کا تعلق آخرت کے مسائل وضروریات سے ہے۔ اپنی دنیاوی زندگی کے مسائل کو سمجھنے، انھیں حل کرنے اور دنیاوی ضروریات پوری کرنے کے لیے دنیاوی علم بھی ضروری ہے، علم کو دو حصوں میں اس طرح تقسیم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، تاہم دونوں کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔(۱)

(۱) عن یحیٰ بن حسان سمعت الشافعي یقول: العلم علمان: علم الدین وہو الفقہ، وعلم الدنیا وہو الطب وما سواہ من الشعر وغیرہ فعناء وعبثٌ۔ (شمس الدین، سیر أعلام النبلاء: ج ۸، ص: ۲۵۲)
وعن الحسن قال: (العلم علمان فعلم في القلب فذاک العلم النافع وعلم علی اللسان فذاک حجۃ اللّٰہ عز وجل علی ابن آدم)۔ رواہ الدارمي۔ (ملا علي قاري، مرقاۃ المفاتیح، ’’کتاب العلم: الفصل الثالث‘‘: ج ۱، ص: ۳۳۴، رقم: ۲۷۰)


فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج2ص164

answered Sep 19, 2023 by Darul Ifta
...