92 views
میں شیئر مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے سے پہلے شرعی قانون کے بارے میں جانکاری چاہتا ہوں۔ مجھےسمجھنا ہے کے جو شیئر مارکٹ میں سرمایہ کاری کا شرعی اصول ہے ، اس اصول کا حساب کس طرح  کیا جاتا ہے۔ کچھ لوگ مارکیٹ کیپٹل کے حساب سے کرتے ہیں،  جبکہ  دوسرے  کل اثاثوں کے حساب سے۔ میں یہ جانا چاہتا ہوں کے کون سا طریقہ صحیح اور شریعت کے ماکبق ہے۔
دوسرا سوال جو میرا ہے ہے، وہ  یہ ہے کے کچھ لوگ ایک سال کے بیلنس شیٹ کے حساب سے اسکریننگ کرتے ہیں جب کی دوسرے لوگ  تین سالوں کے حساب سے۔ میں یہ سمجھنا چاہتا ہوں کے دونو طریقوں میں سے کون سا طریہس زیادہ صحیح اور شریعت کے مطابق ہے۔
آگر آپ  اس  مسہے۔ میں تھوڑی  روشنی ڈال سکیں  تو مجھے بہت خوشی ہوگی۔وصی
asked Sep 21, 2023 in تجارت و ملازمت by Wasi8

1 Answer

Ref. No. 2585/45-4115

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔   شیئر مارکیٹ میں پیسہ لگانے سے پہلے متعلقہ لوگوں سے معلوم کرنا چاہئے کہ وہ سرمایہ کاری کے کس ضابطہ کو اختیار کرتے ہیں، اور شرعی طور پر اس کی حیثیت کیا ہے۔ کسی  قریبی ماہرمفتی کے سامنے بالمشافہ اس کو سمجھ لیں یا اپنا سوال تفصیل سے لکھ کر دوبارہ ارسال کریں ۔دوسرا سوال بھی واضح نہیں ہے تاہم   اگر کسی صحیح کمپنی میں آپ نے پیسہ لگایا ہے تو سالانہ حساب  رکھنا زیادہ بہتر ہوگا اور ہر سال کل مالیت پر واجب زکوۃ کی ادائیگی بھی ضروری ہوگی۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Dec 7, 2023 by Darul Ifta
...