88 views

السلام علیکم ، سوال یہ ہے
جمیلا نامی گاؤں میں ایک مسجد دو تین سو سال قبل ویران ہوگئی اب اسکا نام نشان نہیں ہے ، کچھ زمین پر غیر مسلموں نے قبضہ بھی کرلیا ہے ، چونکہ چاروں جانب غیر مسلموں کی بڑی آبادی ہے اس لئے آئندہ مابقیہ زمین کو رکھا گیا تو رفتہ رفتہ غیر مسلم قبضہ ہی کرلیں گے ، کیا اس صورت حال میں اس زمین کو  کسی طرح بیچ کر دوسری مسجد یا قبرستان میں  رقم لگانا درست ہے؟ واضح رہے کہ وہاں مکتب ، مدرسہ ، مسجد یا زمین کو چہار دیوری دیکر رکھنےکی  کوئی شکل یا فائدہ بظاہر نہیں ہے ۔
المستفتی محمد عبد اللہ عزرائیل قاسمی
asked Nov 6, 2023 in فقہ by عبد اللہ عزرائیل

1 Answer

Ref. No. 2675/45-4134

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ موقوفہ زمین کو بیچنا یا اس کو تبدیل کرنا جائز نہیں ہوتاہے، اس لئے اس کو حتی الامکان بچانے کی کوشش ہونی چاہئے، قانونی کارروائی کے ساتھ اس کا تحفظ ہوسکے تو ایسا کرلیا جائے اور اس میں تالا لگاکر اس کو بند کردیاجائے۔  اور اگر وقف کی زمین کے ضائع ہونے کا قوی اندیشہ ہے اور اس کا تحفظ کسی طرح ممکن نہیں ہے  تو ایسی صورت میں اس کو بیچ کر کسی دوسری جگہ منتقل کیاجاسکتاہے۔

" إذا صحّ الوقف خرج عن ملک الواقف ، وصار حبیسًا علی حکم ملک الله تعالی ، ولم یدخل في ملک الموقوف علیه ، بدلیل انتقاله عنه بشرط الواقف (المالک الأول) کسائر أملاکه ، وإذا صحّ الوقف لم یجز بیعه ولا تملیکه ولا قسمته " ۔ (الفقه الاسلامی وادلته ۱۰/۷۶۱۷ ، الباب الخامس الوقف ، الفصل الثالث حکم الوقف)

"سئل شمس الأئمة الحلواني عن مسجد أو حوض خرب لايحتاج إليه لتفرق الناس هل للقاضي أن يصرف أوقافه إلى مسجد آخر أو حوض آخر؟ قال: نعم (الھندیۃ،الباب الثالث، 2/478 ط: بيروت)

"ولا سيما في زماننا فإن المسجد أو غيره من رباط أو حوض إذا لم ينقل يأخذ أنقاضه اللصوص والمتغلبون كما هو مشاهد وكذلك أوقافه يأكلها النظار أو غيرهم، ويلزم من عدم النقل خراب المسجد الآخر المحتاج إلى النقل إليه (رد المحتار، 4/360، ط: سعيد)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Nov 19, 2023 by Darul Ifta
...