36 views
زید چند مہینے پہلے دبئی میں وفات پا گیا نقد مالیت میں 85 ہزار درہم لیکن اس پر 55 ہزار درہم قرض بھی تھا بچوں کے نانا نے قرضداروں سے منت سماجت کی کہ قرض میں سے کچھ یتیم بچوں کے لیے کمی کی  جائے قرض داروں نے تقریبا 10 ہزار درہم معاف کیا اب باقی درہم 40 ہزار ہیں میت کے ورثاء میں میت کے بچے اور ماں زندہ ہیں اب ماں چالیس  ہزار میں سدس کا دعوی کرتی ہے جب کہ میت کے ورثا بچے ماں کو 30 ہزار میں چھٹا حصہ دینا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک قرض داروں نے نے 10 ہزار درہم بچوں کے لیے چھوڑیں نہ کہ ماں کے لیے حل طلب سوال یہ ہے کہ اس صورت میں ماں کا حصہ 30 ہزار میں یا 40 ہزار میں بنتا ہے۔
asked Nov 14, 2023 in احکام میت / وراثت و وصیت by Abdullah 12377538173

1 Answer

Ref. No. 2682/45-4141

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ قرض کی جو رقم معاف کی گئی ہے وہ میت سے معاف کی گئی ہے لہذا اگر قرض خواہ اپنا قرض لے کر میت کے بچوں کو دیدیتے تو کوئی حرج نہیں تھا لیکن جب انہوں نے قرض معاف کیا ہے تو باقی ماندہ کل  رقم میں یعنی  چالیس ہزار میں سے ماں کو سدس ملے گا اور اس کے ساتھ جو دیگر مال واسباب ہوں ان کو بھی تقسیم سے قبل شامل کرکے ماں کو سدس دیاجائے گا۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Nov 26, 2023 by Darul Ifta
...