18 views
السلام عليكم

 حضرت میں ایک جمات کا امیر ہوں
 میرے پاس ایک ادمی آیا ہے اور کہے لگے گھر میں اکیلہ
 کمانے والا ہوں میری بیوی بیمار ہے اور صرف میرے 3 چھوٹے چھوٹے بچے ہے اور میرے جتنا کمایا اتنا لیکر آگے
 پھر میں نے پوچھا کہ گھر کا خرچہ کھا سے  چالتا ہے تو کھنے لگے ہمارے یہا جامن کے بہت باگ ہے بچے  وہاں سے جامن توڈکے لیکر اتے ہیں انھے منڈی میں بیچ دیتے ہیں  اسسے  گھر کا خرچہ چلتا ہے اور اور بیوی بچے کہتے ہیں ہم فاقہ کاٹ لے گئے
آپ جماعت  میں جائے

 تو اب  آپ  سؤال یہ ہے  کہ اس شخص کا جماعت میں جانا جائز ہے یا نہیں؟

فقط والسلام
asked Mar 5 in متفرقات by Azlan

1 Answer

Ref. No. 1347/42-733

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  دعوت و تبلیغ کی اہمیت سے کون انکار کرسکتاہے۔ ہر شخص کو اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے یہ فریضہ انجام دینا چاہئے۔ اور اگر کسی شخص کو دین سیکھنے کا دوسرا کوئی موقع میسر نہ ہو بجز جماعت تبلیغ میں نکلنےکے تو اس کو جماعت میں جانا جائز ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ اس مدت میں بیوی و بچوں کے خرچہ کا نظم کرے جو کہ شوہر و باپ ہونے کی حیثیت سے اس پر لازم  وضروری ہے۔ بیوی وبچوں کو تنگی و فقر وفاقہ میں چھوڑ کر جانا درست نہیں ہے۔ حج جیسی اہم عبادت کے لئے استطاعت شرط ہے، اور استطاعت میں اپنے سفر خرچ کے ساتھ بیوی وبچہ کے نفقہ کا نظم کرنا بھی داخل ہے۔ اس لئے مذکورہ شخص کا طریقہ کار درست نہیں ہے۔

وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا۔ (سورۃ آل عمران 97، فتجب للزوجۃ علی زوجھا انھا جزاء الاحتباس ، وکل محبوس لمنفعۃ غیرہ یلزمہ نفقتہ کمفت وقاض ووصی (رد المحتار، باب النفقۃ 5/282 زکریا دیوبند) تجب علی الرجل نفقۃ امراتہ  المسلمۃ والذمیۃ والفقیرۃ والغنیۃ دخل بھا او لم یدخل ، کبیرۃ کانت المراۃ او صغیرۃ یجامع مثلھا ، کذا فی فتاوی قاضی خان، سواء کانت حرۃ او مکاتبۃ کذا فی الجوھرۃ النیرۃ (الفتاوی الھندیۃ ، کتاب الطلاق ، الباب السابع عشر فی النفقات، الفصل الاول 1/595)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Mar 9 by Darul Ifta
...