43 views
جناب عالی
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جناب عالی میرے ایک عزیز دوست نے مجھ سے پانچ لاکھ روپیہ نقد کی شکل میں قرض لیا تھا لیکن ادائیگی سے قبل ہی انتقال کرگئے میرے پاس تحریری شکل میں کوئی ثبوت نہیں ہے اس لئے لواحقین قرض کی ادائیگی کرنے سے منع کر رہے ہیں البتہ مرحوم کی ایک زمین ہے جس کے کاغزات میرے نام سے ہیں اور اس زمین کی قیمت بھی پانچ لاکھ ہے مارکیٹ ریٹ کے اعتبار سے تو کیا میں اس زمین کو فروخت کرکے یا زمین کو اپنی پاس رکھ کر قرض کی ادائیگی کرسکتا ہوں اور کیا یہ شرعا میرے جائز ہوگا ۔ جواب عنایت فرماکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں والسلام
محمد طلحہ ولد محمد الیاس
بی ۱۱۰ ابو الفضل انکلیو جامعہ نگر اوکھلا نئی دہلی
7683002719
asked May 18, 2023 in متفرقات by Mo Talha

1 Answer

Ref. No. 2327/44-3490

بشرط صحت سوال صورت مذکورہ میں اگر  مقروض کے وارثین قرض  کے بارے میں علم رکھتے ہیں مگر ادائیگی کے لئے تیار نہیں ہیں، یا یہ کہ وہ قسم کھانے  سے انکار کریں تو آپ کے لئے مرحوم کی اس زمین کو بیچ کر اپنا قرض وصول کرنے کی اجازت ہے، اسی طرح مارکیٹ ریٹ کے اعتبار سے مرحوم کے وارثین کو زمین کی رقم دیدینا بھی کافی ہے، البتہ وارثین کو اس زمین کے بارے میں پوری اطلاع دینا ضروری ہے تاکہ اگر وہ زمین رکھنا چاہیں تو آپ کا قرض ادا کرکے زمین اپنے پاس رکھ لیں یا اس زمین کو بیچنے پر راضی ہوجائیں۔ 

كذا إذا ادعى دينا أو عينا على وارث إذا علم القاضي كونه ميراثا أو أقر به المدعي أو برهن الخصم عليه) فيحلف على العلم.

)الدر المختار: (553/5، ط: دار الفکر(

ولو أن رجلا قدم رجلا إلى القاضي وقال: إن أبا هذا قد مات ولي عليه ألف درهم دين فإنه ينبغي للقاضي أن يسأل المدعى عليه هل مات أبوه؟ ولا يأمره بجواب دعوى المدعي أولا فبعد ذلك المسألة على وجهين: إما أن أقر الابن فقال: نعم مات أبي، أو أنكر موت الأب فإن أقر وقال: نعم مات أبي؛ سأله القاضي عن دعوى الرجل على أبيه فإن أقر له بالدين على أبيه يستوفى الدين من نصيبه، ولو أنكر فأقام المدعي بينة على ذلك قبلت بينته وقضي بالدين ويستوفى الدين من جميع التركة لا من نصيب هذا الوارث خاصة.۔۔۔۔وإن لم تكن للمدعي بينة وأراد استحلاف هذا الوارث يستحلف على العلم عند علمائنا - رحمهم الله تعالى - بالله ما تعلم أن لهذا على أبيك هذا المال الذي ادعى وهو ألف درهم ولا شيء منه.فإن حلف انتهى الأمر وإن نكل يستوفى الدين من نصيبه۔

)الفتاوی الھندیۃ: (407/3، ط: دار الفکر(

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered May 23, 2023 by Darul Ifta
...