215 views
بالغہ یا نابالغہ کا علم حاصل کرنا:
(۱۳۹)سوال:(۱)کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں:
 (۱لف) عورت بالغہ یا نابالغہ مگر مشتہاۃ ہو تو گھر سے باہر ہوکر دارالاقامہ میں رہ کر یا بغیر دارالاقامہ میں رہتے ہوئے کوئی محرم راستہ میں ساتھ لے کر آیا جایاکرے مگر دارالاقامہ میں کوئی محرم ساتھ نہ رہے تو ایسی صورت میں علم حاصل کرنے کے بارے میں حضرات مفتیانِ کرام کی کیا رائے ہے؟ نیز یہ بھی فرمائیں کہ حصول علم میں مرد یا عورت ہونے میں کوئی فرق ہے یا نہیں؟
(ب) سنا جاتا ہے کہ مدارس البنات کے جو ناظم تعلیمات ہیں یہ حضرات بھی سن رسیدہ ہونے کی وجہ سے کہتے ہیں کہ ہم بوڑھے ہیں؛ لہٰذا متعلمہ عورتوں کے بالمقابل جاکر ان کی ضروریات کی خبرگیری کرسکتے ہیں اب بتائیں کہ ان کا ایسا کہنا کس حد تک صحیح ہے؟
(ج)
 (ج) اگر معلم مرد ہو تو اس سے بالغہ عورت کا پردہ میں رہتے ہوئے تعلیمی سوال و جواب کرنا کیسا ہوگا۔ حالانکہ ’’صوۃ المرأۃ عورۃ‘‘ جو مقولہ ہے کیا وہ لفظاً و معنی حدیث میں سے نہیں؟ اگرچہ لفظاً نہیں تو یقینا معنیً ہوگا، اب اس حدیث کے لحاظ سے عورت کا مرد معلم سے سوال و جواب کرکے علم حاصل کرنا ان کے لئے جائز ہوگا یا نہیں، اگر جائز ہے تو من جانب شرع کسی قسم کی قیودات ہیں یا نہیں؟
(د) مدارس البنات کے محرکین کی طرف سے یہ بھی سنا جاتا ہے کہ عورت علم دین حاصل کرنے کے لئے گھر سے باہر ہونے کے بعد خدانخواستہ اگر راستہ میں زنا و فتنہ کا یقینی اندیشہ ہو تب بھی تحصیل علم کے لیے باہر ہونا ضروری ہے اگر بات من جانب الشرع صحیح ہے تو کس درجہ کے علم کے لئے باہر ہوسکتی ہیں۔ باالتفصیل حوالۂ قلم فرمائیں؟
(ہ) مدارس البنات کے بارے میں ایک اور اشکال کا استفتاء:
مدارس البنات اگر علمائے زمان یعنی دورِ حاضر کے علمائے کرام قائم نہ کریں تو عنداللہ مسئول ہوں گے یا نہیں، اگر حقیقۃً مسئول ہونا ہی ہو، تو اگلے علماء کے زمانے یعنی حضرات علماء دیوبندؒ وغیرہم کیوں مدارس قائم نہیں کئے، اور جب کہ مدارس البنات قائم کئے بغیر وہ دنیا سے رحلت فرماگئے تو کیا وہ ناجی نہ ہوں گے
فقط: والسلام
المستفتی: حضرت العلام
جناب حافظ محبوب الرحمن صاحب چاٹگام
asked Sep 20, 2023 in متفرقات by azhad1

1 Answer

الجواب وباللّٰہ التوفیق:آجکل مردوں کی تعلیم کی طرف تو علماء و دیگر حضرات توجہ دے رہے ہیں لیکن عورتوں کی تعلیم کے لئے کوئی خاص نظم موجودہ دور میں مسلم معاشرہ میں نہیں پایا جاتا حالانکہ جس طرح مردوں پر حصول تعلیم لازم و ضروری ہے اسی طرح دینی تعلیم، تشریع اسلامی فقہ و حدیث وغیرہ کا حاصل کرنا عورتوں پر بھی ضروری ہے کم ازکم اس درجہ حصول تعلیم تو فرض ہے کہ نماز، روزہ، حج وزکوٰۃ اور ان کے شرائط مثلاً طہارت وغیرہ سے پورے طور پر اس کو جانکاری حاصل ہوجائے اور ارکان اسلام کی صحیح ادائے گی پر عورت قادر ہو۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ’’طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم ومسلمۃ‘‘ (الحدیث) بعض حضرات نے ’’مسلمۃ‘‘ کے لفظ کو مدرج فی الحدیث کہا ہے، اگر اس لفظ کو مدرج ہی مانا جائے تب بھی حدیث صرف مردوں کے لئے نہیں ہے بلکہ ’’مسلم‘‘ کے لفظ میں تبعاً عورتیں بھی داخل ہیں، نیز اتنا علم حاصل کرنا ضروریات و واجبات دین میں سے ہے اور اس سے زائد حاصل کرنے میں دینی ومعاشرتی فائدے بیشمار ہیں۔
 خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنفس نفیس عورتوں کو مسائل بتلاتے اور عورتیں کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسائل دریافت کرتیں۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو خصوصاً فقہ اسلامی میں ید طولیٰ حاصل تھا۔ حضرات صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا  سے مسائل دریافت کیا کرتے تھے، فقہاء کے یہاں بھی اس کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں صاحب بدائع صنائع علامہ کاسانی رحمہ اللہ جو فقہ حنفی کے اہم افراد و متبحرین میں شمار کئے جاتے ہیں، ان کی صاحبزادی اور اہلیہ فقہ میں بڑی مہارت رکھتی تھیں حتی کہ ہر فتویٰ پر ان کی صاحبزادی کے دستخط لازمی ہوتے تھے۔ لوگ ان سے مسائل معلوم کرتے اور وہ لوگوں کو مسائل بتلاتی تھیں۔ اسی طرح کی بہت سی مثالیں اسلامی معاشرہ میں ملتی ہیں۔ در مختار کے ایک مسئلہ سے اس کی پوری وضاحت ہوتی ہے در مختار میں ہے کہ: اگر کمسن لڑکی کی شادی باپ دادا کے علاوہ نے یا کسی کمسن باندی کی شادی غیر آقا نے کرادی تو وقت بلوغ ان دونوں کو خیار حاصل ہوگا کہ قاضی شرعی کے یہاں درخواست دے کر اس نکاح کو ختم کرادیں۔ شرط یہ ہے کہ جب بالغ ہو تو فوراً عدم رضا کا اظہارکرے اور اپنے تئیں یہ طے کرے کہ اس نکاح کو باقی نہیں رکھنا۔ اگر بلوغ کے سال دو سال بعد اپنا خیار فسخ حاصل کرنا چاہے تو خیار فسخ حاصل نہ ہوگا اگر آزاد عورت یہ کہے کہ مجھے مسئلہ معلوم نہیں تھا کہ فوراً فسخ کا اظہار ضروری ہے تو اس کی بات قابل اعتناء و اعتبار نہ ہوگی ہاں اگر باندی یہ کہے کہ مجھے مسئلہ معلوم نہیں تھا تو اس کی بات کا اعتبار کیا جائے گا۔ وجہ یہ ہے کہ باندی کو تو حصول علم کا موقع نہیں ملتا کہ وہ اتنا علم حاصل کرے اور آزاد عورت کو مواقع حاصل ہیں۔ اس لئے اس پر لازم تھا کہ وہ اتنا علم حاصل کرتی (کتاب النکاح از درمختار) معلوم ہوا کہ ایسے باریک جزئیات پر بھی نظر ہونی ضروری ہے آجکل عورتیں نماز روزہ، نماز میں سجدۂ سہو، سے ہی غافل ہیں اس لئے کہ ان کی تعلیم کا مردوں نے کوئی نظم ہی نہیں کیا، رہا یہ کہ عورتوں کی تعلیم کے لئے اگر مردوں کو معلم رکھا جائے تو ’’صوۃ المرأۃ عورۃ‘‘ سے اعتراض لازم آئے گا سو مندرجہ بالا واقعات کے پیش نظر اس کی ضرورت بھی شدید ہے پس مدرسہ میں اگر پردہ کے ساتھ تعلیم کا نظم ہو اور مرد معلم ہو تو بھی مضائقہ نہیں حتی الامکان عورتیں ہی تعلیم دیں، لیکن ضرورت کے وقت پردہ کے معقول نظم کے ساتھ اگر مرد بھی تعلیم دے تو اس کی بھی گنجائش ہوگی۔
البتہ یہ لازم ہے کہ خود مرد عورتوں کی خبر گیری نہ کریں اسٹاف عورتوں ہی کا ہو۔ اختلاط ہر گز نہ ہو۔ جہاں کلام و بات چیت لازم ہوجائے وہاں معقول پردہ کا لحاظ رکھا جائے۔ دارالاقامہ میں پردہ کا معقول نظم ہو اس کی دیواریں اونچی ہوں وغیرہ لیکن اگر کسی لڑکی کے بارے میں یہ یقین مکمل طور پر ہو یا خود اس لڑکی کو یقین ہو کہ زنا میں مبتلا ہوجائے گی تو وہ گھر ہی میں رہ کر معمولی علم حاصل کرے جو حضرات ایسے وقت پر بھی دارالاقامہ یا مدرسہ میں طالبات یا کسی طالبہ کا آنا لازم قرار دیں یہ درست نہیں ان لوگوں کی بات شرعاً قابل تردید ہے۔ بعض خصوصی واقعات و ضروریات لازمہ کے پیش نظر علماء دیوبند مدارس البنات نہ کھول سکے ان کا مشن مردوں کی تعلیم رہا مواقع اس کے نہ مل سکے کہ اس طرف کامل طور پر توجہ دے سکتے۔ الحاصل عورتوں کی تعلیم کے نظم کی ضرورت ہے اس کی مخالفت درست نہیں ہے۔(۱)

(۱) وعن الشفاء بنت عبد اللّٰہ قالت: دخل رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم و أنا   عند حفصۃ فقال: (ألا تعلمین ہذہ رقیۃ النملۃ کما علمتنیہا الکتابۃ، رواہ أبو داؤد۔ (ملا علي قاري، مرقاۃ المفاتیح، ’’کتاب الطب والرقي، الفصل الثاني‘‘: ج ۸، ص: ۳۷۸، رقم: ۴۵۶۱)
وقال صاحب بذل المجہود، وفیہ دلیل علی جواز تعلم نساء الکتابۃ الخ۔ (بذل المجہود: ج ۵، ص: ۸)
وکن نسائٌ یبعثن إلی عائشۃ رضي اللّٰہ عنہا: بالدرجۃ فیہا الکرسف فیہ الصفرۃ، فتقول: ألا تعجلن حتی ترین القصۃ البیضاء۔ (أخرجہ البخاري، في صحیحہ، ’’کتاب الحیض: باب إقبال المحیض وإدبارہ‘‘: ج ۱، ص: ۴۵۶)
إعلم أنہ لما کان الرجال یہیجہم النظر إلی النساء علی عشقہن والتولہ بہن، ویفعل بالنساء مثل ذلک، وکان کثیراً ما یکون ذلک سبب لأن یبتغي قضاء الشہوۃ منہن علی غیر السنۃ الراشدۃ، کاتباع من ہي في عصمۃ غیرہ، أو بلا نکاح، أو غیر اعتبار کفائۃ والذي شوہد في ہذ الباب یغني عما سطر في الدفاتر اقتضت الحکمۃ أن یسد ہذا الباب۔ (الإمام الشاہ ولي اللّٰہ محدث الدہلوي، حجۃ اللّٰہ البالغۃ: ج ۱، ص: ۶۸۶)
وکل عمل ولو تبرعاً لأجنبي ولو قابلۃ أو مغلسۃ لتقدم حقہ علی فرض الکفایۃ، ومن مجلس العلم إلا لنازلۃ امتنع زوجہا من سؤالہا۔ (ابن عابدین، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الطلاق: باب النفقۃ، مطلب في الکلام علی المؤنسۃ‘‘: ج ۵، ص: ۳۲۵)


فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج2ص182

answered Sep 20, 2023 by Darul Ifta
...