54 views
مولانا حقانی کو مولانا کہنا صحیح ہے کہ نہیں؟
(۱۴۳)سوال: حضرت مولانا حقانی صاحب کو دیکھ کر لوگ کہتے ہیں کہ وہ کوئی مستند عالموں میں سے نہیں ہیں، لہٰذا اُنھیں مولانا نہ کہا جائے، تو ایسے لوگوں کا قول صحیح ہے یا غلط، جب کہ مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں محض بدعت پسند لوگ کہتے ہیں کہ ایک بے پڑھے لکھے جاہل آدمی کو آگے بلایا جانا اور وہ بھی علماء کے قلم سے زیب نہیں دیتا، لیکن میں عرض کروں گا کہ حدیث نبوی میں ہے ایک ایسے شخص کو جو صرف چالیس حدیثیں یاد کئے ہوئے ہو، یوم حشر میں زمرہ علماء میں اٹھایا جائے گا، تو جس شخص کے سینہ میں ہزارہا حدیثیں اور روایات اور کتاب اللہ کی آیات مع صفحہ وسطر محفوظ ہوں آخر زمرہ علماء میں شمار نہ کرنے کی وجہ کیا ہوسکتی ہے۔
فقط: والسلام
المستفتی: محمد عثمان، سلطان پور
asked Sep 21, 2023 in متفرقات by azhad1

1 Answer

الجواب وباللّٰہ التوفیق:مستفتی نے جو حضرت مولانا حقانی کے متعلق حضرت حکیم الاسلام قدس سرہ کا جو فیصلہ نقل کیا وہ قرآن وحدیث کی روشنی میں حضرت رحمۃ اللہ نے بیان فرمایا ہے، جو اپنی جگہ پر مسلم اور قابل اعتماد ہے حضرت کے بالمقابل دیگر ہر کس وناکس کی بات معتبر نہیں ہوگی، حضرت کا فیصلہ کافی ہے دوسروں کی طرف قطعاً توجہ کی ضرورت نہیں۔(۱)

(۱) وعن أبي الدرداء قال سئل رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ما حد العلم الذي إذا بلغہ الرجل کان فقیہاً، فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: من حفظ علی أمتي أربعین حدیثاً في أمر دینہا بعثہ اللّٰہ فقیہا وکنت لہ یوم القیامۃ شافعاً وشہیداً۔
قال الطیبي فإن قیل کیف طابق الجواب السؤال أجیب بأنہ من حیث المعنی کأنہ قیل معرفۃ أربعین حدیثا بأسانیدہا مع تعلیمہا الناس … والظاہر أن معرفۃ أسانیدہا لیست بشرط الخ۔ (ملا علي قاري، مرقاۃ المفاتیح، ’’کتاب العلم: الفصل الثالث‘‘: ج ۱، ص: ۳۰۸، رقم: ۲۵۸)


فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج2ص187

answered Sep 21, 2023 by Darul Ifta
...